Monday, August 21, 2017

برسوں کے بعد

آج پھر اداسی کی شام آئی ہے برسوں کے بعد
پھر دل نے تمھیں پکارا ہے اک بار برسوں کے بعد

بس اک یاد کا رشتہ ہے تم سے فقط باقی اب وفاومہبت سچ وجھوٹ کوئی رنگ بامعنی نہیں

لفظوں کی اُس مسلسل تکرار میں جذبوں کی برسات میں
تنہا کھڑے تم تنہا کھڑا میں بھیگ رہے ہیں اِک یاد میں

میں کہیں اپنے آپ میں کھو گیا ہوں پھر سے
مجھے ڈھونڈ لاؤ میرے ماضی کے مزار سے

درد کے رشتوں میں وقت اور لفظوں کا تکلف کیسا؟
گلہ کرو میری بے حسی کا پھر اک بار تم مجھ سے

تیری یاد لوٹ آئی ہے اک بار پھر اے میرے محسن
میں آج پھر تیرے روبرو کھڑا ہوں اک گھمنڈ کی طرح

سوچ کے محور کو بدل کےدیکھ رہا ہوں میں اس بار
تیری یاد کے پہلو میں بھلا دیا پھر اک بار میں نے



Tuesday, May 30, 2017

سوچ ک چند پَل

اداسی اپنی آخوش میں لے رہی ہے مجھےکسطرح  رفتہ رفتہ
میں خود کو کھو رہا ہوں پھر تمہارے صہر میں رفتہ رفتہ

اک تیری یاد اور دل کا سکوں دونوں ہی برباد ہو کر رہیں گے
میں تجھے تو بھول جاؤں پر اس ویرانے کا کیا کروں گا اس بار

سب سے خلوص سے ملا کرو، یہی کہتے تھے نہ تم
اب سب سے اچھے مراسم ہیں اس عبرت خانے میں

وہ میری حسرت ہی رہی اک خاموش خواہش کی طرح
مسکراتی آنکھوں کے سراب لوٹتے رہے رات بھر مجھے

تم  سے الجھنے کے تو میرے پاس کئی بہانے ہیں اے ہمدم
تم سے وابستہ کتنی شامیں، اداس لمہےاور ٹھرے ہوئے کچھ پل

مجھ سے میرا آپ مخاطب ہو کر کہتا ہے اکثر تنہائی میں
نادان ، ناسمجھ تو اب بھی اس کمبخت دل کی سنتا ہے

داستاں

مجھ سے مانگو کبھی میرا دل تم بھی تو
ادھورے وقت کی داستاں سناۓ گا یہ تمھیں



Sunday, April 16, 2017

تلاش ہے!۔

نہ کوئی منزل ہے نہ کسی منزل کی جستجو ہے
اک سرابِ منزل ہے جس کی تلاش میں کھو گیا ہوں

وقت کے ہاتھوں گرفتار لمہوں کے درمیاں کہیں  خاموش
ایک خوابِ مسلسل کی مستقل تلاش میں  کھو گیا ہوں

جسے ڈھونڈ لوں میں اپنے آپ میں کھو کر 
اُسی حقیقت کے فریب کی اب تو تلاش ہے

اپنی سوچ کے زخم دکھاؤں میں کس لئے 
جسے دفنا دیا تھا کل پھراُس کی تلاش ہے

زندوں میں نہ مردوں میں جس کا شمار ہے
وہ حقیقت میں ہوں جس کی تجھے تلاش ہے

آج بھٹک جانے دے اے دل بس اُس کی یاد میں مسلسل
آج اس  معصوم کی آنکھوں میں صرف اپنی تلاش ہے


Saturday, April 15, 2017

نادان نا سمجھ

مجھ سے میرا آپ مخاطب ہو کر کہتا ہے اکثر تنہائی میں 
نادان ، ناسمجھ تو اب بھی اس کمبخت دل کی سنتا ہے؟

رسمِ الفت

رسمِ الفت نئی نئی ہےابھی، دل کی بات تم سے کہیں کیسے؟
جاناں  کتنا بھلا ہو، خاموش میں رہوں اور تم سمجھ جاؤ

Wednesday, April 5, 2017

ہمسفر لمہے

چہروں پہ لکھی کہانیاں
ایک ایک کرکےٹوتی وہ تمام خاموشاں
ایاں ہوتی ہیں کچھ بیاں ہونے سے
ذکر کرتی ہیں ان لمہوں کا
جن کے گزرنے کا احساس 
ایک بازگشت کی طرح
دہرا رہا ہے بار بار ہر بار
کہنے کو ایک سرگوشی ہے
پر وقت کی کہی ہر بات 
کہنے سے پہلے تو کبھی
سننے کے بعد اس موڑ پہ
کھڑے منتظر وہ تمام ہمسفر لمہے
اپنی اپنی تھکان کا بوجھ لئیے
ایک ساتھ تنہا تنہا رواں ہیں
اُس منزل کی جانب
جس کی جستجو
ان کی منتظر ہی نہیں 


Monday, March 20, 2017

جاناں سے

تم سے کہنے کی نہیں سننے کی بات ہے جاناں!
بہت مدھم سی صدا آتی ہے، دل میں بسا لو مجھکو

Saturday, December 31, 2016

خواب گر

اس درد کے موسم میں ایک اور اکیلی شام ڈھلی ہے
یادوں کے ساون آئے ہیں اداسیوں کی جھڑی چلی ہے 

خود سے دورکہیں تنہا بیٹھا  میں تجھ سے کہتا ہوں
میرے خواب گر مجھے بخش دے اپنے مکمل زمیں آسماں 

شعور و لاشعور کے درمیاں عقل و فہم سے دور دور
میں تیری تلاش میں گم دیوانہ وار خود سے ہمکلام ہوں

Tuesday, December 20, 2016

خود فریبی

روک لو وقت کو تھام کے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں آج تم
بہک نہ جاؤں وقت کےاس دھارے میں آج پھر میں تنہا

میری آنکھوں میں بسے خواب دیکھو اک بار تم بھی
اک جہاں ہے موسم کی طرح بدلتا روز و شب کسطرح

میری روح کی حقیقت عیاں ہے میری مسکراہٹوں میں
اک  تماشہ ہے سو دیکھ لو جی بھر کے آج تم بھی

دل میں چھپی مسکان کا اب کسے علم ہے 
کوئی رازداں نہیں ہے رہزن کے شہر میں

اس بجھے دل میں اب تیری یاد کہاں بھٹکتی ہے کبھی
اک بازگشت ہےگئے دنوں کی جسے بلاۓ جارہا ہوں میں مسلسل

میں کیسے کہہ دوں کہ تم سے مہبت نہیں ہےاب مجھے
سچ کا سامنا کرنےکاحوصلہ نہ میرے پاس ہے نہ تیرے پاس

میں خود سے جھوٹ کہتا ہوں اب اکثر تنہائی میں
وہ میرا ہمسفر تھا عمر بھر کا بے وفا ہرگز نہ تھا 

میری آنکھیں آج بھی اُس کے خواب دیکھتی ہیں
وہ میرے پاس ہے گویا ہر شام پہلے ہی کی طرح

اس دل کو سمجھانے کی صرف بات نہیں ہے اے ہمدم
اب کچھ سوال یہ بھی پوچھتا ہے بددل ہو کر کبھی کبھی

تم مجھے یاد نہ آؤ اب یہی مناسب ہے 
اس درد کے رشتے کو کب تک نبھائیں گے

میری سوچ پہ حاوی آج بھی وہی حقیقت ہے
خاموش مسکراہٹ اجاڑآنکھیں چند بھٹکےآنسو