Sunday, April 16, 2017

تلاش ہے!۔

نہ منزل ہے نہ منزل کی جستجو ہے
اک سرابِ منزل ہے جس کی تلاش ہے

وقت کے ہاتھوں گرفتار لمہوں کے درمیاں
ایک خوابِ مسلسل کی مستقل تلاش ہے 

جسے ڈھونڈ لوں میں اپنے آپ میں کھو کر
اُسی حقیقت کے فریب کی اب تو تلاش ہے

اپنی سوچ کے زخم دکھاؤں میں کس لئے 
جسے دفنا دیا تھا کل پھراُس کی تلاش ہے

زندوں میں نہ مردوں میں جس کا شمار ہے
وہ حقیقت میں ہوں جس کی تجھے تلاش ہے

آج بھٹک جانے دے اے دل بس اُس کی یاد میں
اس معصوم کی آنکھوں میں صرف اپنی تلاش ہے


Saturday, April 15, 2017

نادان نا سمجھ

مجھ سے میرا آپ مخاطب ہو کر کہتا ہے اکثر تنہائی میں 
نادان ، ناسمجھ تو اب بھی اس کمبخت دل کی سنتا ہے

رسمِ الفت

رسمِ الفت نئی نئی ہےابھی، دل کی بات تم سے کہیں کیسے؟
کتنا بھلا ہو، خاموش میں رہوں اور تم سمجھ جاؤ

Tuesday, April 11, 2017

سوچ ک چند پَل

اداسی اپنی آخوش میں لے رہی ہے مجھےکسطرح  رفتہ رفتہ
میں خود کو کھو رہا ہوں پھر تمہارے صحر میں رفتہ رفتہ

اک تیری یاد اور یہ دل کا سکوں دونوں ہی برباد ہو کر رہیں گے
میں تجھے تو بھول جاؤں پر اس ویرانے کا کیا کروں گا اس بار

سب سے خلوص سے ملا کرو، یہی کہتے تھے نہ تم
اب سب سے اچھے مراسم ہیں اس عبرت خانے میں

وہ میری حسرت ہی رہی اک خاموش خواہش کی طرح
مسکراتی آنکھوں کے سراب لوٹتے رہے رات بھر مجھے

مجھ سے الجھنے کے تو تیرے پاس کئی بہانے ہیں اے ہمدم
تم سے وابستہ کتنی شامیں، اداس لمہےاور ٹھرے ہوئے سب لمہے

مجھ سے میرا آپ مخاطب ہو کر کہتا ہے اکثر تنہائی میں
نادان ، ناسمجھ تو اب بھی اس کمبخت دل کی سنتا ہے

Wednesday, April 5, 2017

ہمسفر لمہے

چہروں پہ لکھی کہانیاں
ایک ایک کرکےٹوتی وہ تمام خاموشاں
ایاں ہوتی ہیں کچھ بیاں ہونے سے
ذکر کرتی ہیں ان لمہوں کا
جن کے گزرنے کا احساس 
ایک بازگشت کی طرح
دہرا رہا ہے بار بار ہر بار
کہنے کو ایک سرگوشی ہے
پر وقت کی کہی ہر بات 
کہنے سے پہلے تو کبھی
سننے کے بعد اس موڑ پہ
کھڑے منتظر وہ تمام ہمسفر لمہے
اپنی اپنی تھکان کا بوجھ لئیے
ایک ساتھ تنہا تنہا رواں ہیں
اُس منزل کی جانب
جس کی جستجو
ان کی منتظر ہی نہیں 


Monday, March 20, 2017

جاناں سے

تم سے کہنے کی نہیں سننے کی بات ہے جاناں!
بہت مدھم سی صدا آتی ہے، دل میں بسا لو مجھکو

Tuesday, December 20, 2016

خود فریبی

روک لو وقت کو تھام کے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں آج تم
بہک نہ جاؤں وقت کےاس دھارے میں آج پھر میں تنہا

میری آنکھوں میں بسے خواب دیکھو اک بار تم بھی
اک جہاں ہے موسم کی طرح بدلتا روز و شب کسطرح

میری روح کی حقیقت عیاں ہے میری مسکراہٹوں میں
اک  تماشہ ہے سو دیکھ لو جی بھر کے آج تم بھی

دل میں چھپی مسکان کا اب کسے علم ہے 
کوئی رازداں نہیں ہے رہزن کے شہر میں

اس بجھے دل میں اب تیری یاد کہاں بھٹکتی ہے کبھی
اک بازگشت ہےگئے دنوں کی جسے بلاۓ جارہا ہوں میں مسلسل

میں کیسے کہہ دوں کہ تم سے مہبت نہیں ہےاب مجھے
سچ کا سامنا کرنےکاحوصلہ نہ میرے پاس ہے نہ تیرے پاس

میں خود سے جھوٹ کہتا ہوں اب اکثر تنہائی میں
وہ میرا ہمسفر تھا عمر بھر کا بے وفا ہرگز نہ تھا 

میری آنکھیں آج بھی اُس کے خواب دیکھتی ہیں
وہ میرے پاس ہے گویا ہر شام پہلے ہی کی طرح

اس دل کو سمجھانے کی صرف بات نہیں ہے اے ہمدم
اب کچھ سوال یہ بھی پوچھتا ہے بددل ہو کر کبھی کبھی

تم مجھے یاد نہ آؤ اب یہی مناسب ہے 
اس درد کے رشتے کو کب تک نبھائیں گے

میری سوچ پہ حاوی آج بھی وہی حقیقت ہے
خاموش مسکراہٹ اجاڑآنکھیں چند بھٹکےآنسو




غمِ جاں سے وابستہ

 رنجشوں کے ہجوم سے نکل کر دیکھ اپنے روبرو
تو الفت کے سرہانے پڑی اک خواہش کا امین ہے

تیری پاکیزگی کی قسم کھانےکو تیار ہے وقت اب بھی
جو چلا گیااسےیاد کر اور پھر بھول جا اک خواب کی طرح

وقتِ رخصت مجھ سے لپٹ کے رویا تھا وہ اِس طرح
کہ حرجائی بھی میں ہوں منافق اور بےوفا بھی میں

میری آوراگی کچھ تو تیری شہرت کا بھی سبب بنےگی
تُو کس کس سےچھپائےگا دیوانہ ہے اک، صرف تیرےنام کا

عہدِ وفا کا تقاصہ ہے کے خاموش رہوں میں بھی
اک دل کے ٹوٹنے کی فقط بات نہیں ہے یہ صرف

مجھ سے مانگا ہے وفاؤں کا حساب تم نے آج پھر
دل کی دھڑکنوں سے پوچھ لو ان کی زباں کیا ہے

میرے خواب و خیال میں بسے ہو تم اس قدر سچائی سے
اب حقیقت اک مسلسل فریب محسوس ہوتی ہے گویا مجھے

میری امیدوں کا اک کارواں رواں ہے تیری جستجو میں
بھٹک جاتا ہوں میں اکثرستاروں کی راہ شناسائی میں اےہمدم

وابستہ ہے میرا عشق تیرے نام کیساتھ اس قدر جانِ جاں
میں خود سے بھی فریب کروں اگر تو یقیں نہیں آتا مجھے

کل کی خبر کس نے رکھی ہے آج تک اِس جنوں میں
اک تیرے نام کا سہارا لیئےزندگی کو جئیے جارہا ہوں

غمِ الفت نہ سہی اور بھی غمِ جاں ہیں ہمیں نبھانے کو
اک مسکراہٹ ہے تمہارے نام سے وابستہ سو بدنام ہیں 

میرے وجود کا ایک مکمل حصہ تم بھی تو ہو میری جاں
میں خود کو جھٹلاؤں اور بھول جاؤں اب یہی مناسب ہے

Tuesday, December 6, 2016

سچ!

دل میں احساسِ ندامت لیۓ جا رہا ہوں آج میں
اک نئی امیدِ صحر کی تلاش میں بھکرکر گویا

جذبوں میں اب سچائ کہاں رہی ہمارے درمیاں
تم سے سچ کہوں مہبت تو اک بہانہ ہے مِلن کا

Thursday, November 24, 2016

چند سوچیں

مجھ سے تیری کیا پردہ داری ہے اے میرے رفیق 
تیری منزل نہیں، ہمسفر نہیں، تیری رہ گزر تو ہوں

اس میری سوچ کا بھرم تو بھی رکھ لے اب کی بار 
کہ میں تیری ضرورت نہیں اک خواہشِ نامکمل ہوں