Sunday, November 20, 2016

بھٹکتے لمہے

رسمِ الفت ہی سہی اک رشتہ تو ہے تجھ سے

میں تیرا وفادار نہ سہی ہرجائی بھی نہیں ہوں

وقت کے قدم لمہہ لمہہ آگے بڑھ رہے ہیں تیری طرف

اک وفا کا پُل ہے جسے سوچ کر خود ہی عبور کرنا ہے 

میرےمحسن مجھےکہتے ہیں لوٹ جا خاموشی سے واپس

تو بھٹک گیا ہے خوامخواہ دل کے بہلانے کو آج پھر اک بار

بے نام سا رشتہ

میری نظرسےجو خود کو دیکھو گےکبھی چھپ کر

تم بھی بہک جاؤ گے اس بیابان میں میرے ساتھ 

دل میں چھپی تمنا اور ایک بےنام سا یہ رشتہ

اس لاتعلق سے رشتے کو نام دے کر انجام نہ دو

میں خود سے دور اک الگ ہی دنیا میں رہتا ہوں

مجھ سے الجھنے سے پہلے میری دنیا تو دیکھو

میرے کہنے یا تیرے سننے کی بات ہرگز نہیں ہے یہ اے ہمدم

میں تم سےاورتم مجھ سے شاید یہ کبھی کہہ بھی نہ پائیں گے

میری سوچ پہ اب اُس کی اجارہ داری ہے آج کل

میں وقت کی طرح ٹھہر گیا ہوں جیسے اُس کے روبرو

Thursday, November 17, 2016

یقیں

مجھ سے میرا یقین کہتا ہے

ایک بار پھر سوچ لے

تیری عداوت تجھے برباد نہ کردے

Wednesday, November 16, 2016

کھلونا

 خود سے دور اور سوچ کے قریب کہیں تنہا تنہا

میرے منتظر میرے خواب مجھے بلاتے ہیں بار بار

مجھ سےکہتےسنتےسرگوشی کرتے یہ بےمقصد ارادے

لمہہ لمہہ اک اک کرتے گرتے ٹوٹتےلاوارث خواب ہی تو ہیں

میں خود سےکہتا ہوں مجھ سےبھی بات کر کبھی تُو

میں خود سے نالاں ہوں کب سے یہ یاد کر کبھی تُو

اک تیرا ذکر خود سے کرتے کرتے شبِ تنہائی میں

خود کو تیری پرچھائی سمجھنے لگا ہوں اب میں

یہ معصوم لمہے اور تمہارا کمزورکھلونے جیسا تنہا دل

دنیا یہی سمجھےگی حوص کی اک اور داستاں تمام ہوئی

میں سمجھوں گا اس کہانی کا انجام بھی تمام ہوا

جس کی شروعات اور اختطام اک فسانہ تھا درد بھرا

Sunday, November 6, 2016

اک نئ جستجو

خاموشی کا سکوت

شام کی اداسی

اندھیرے کمرے میں بند

چند آنسؤں کی خشک رم جھم

میری سوچ کے محور 

یادوں کے گرداب

الجھنوں کی لڑی

مسکراتی نظر

اور ایک پیالی چائے

کیسا منظر ہے تجھ سے

ملاقات کا

زماں و مکاں سے دور

سوچ کے دریچوں کے درمیاں

میں آج بھی تم سے ملتا ہوں

گھڑی دو گھڑی کو سہی

حقیقت سے دور اک حقیقت کے ساتھ

ذرا ذرا، لمہہ لمہہ جوڑ کر

میں اک نیا خواب بُن رہا ہوں

Friday, November 4, 2016

شیشے کا گھر

میں شیشے کے گھر میں رہتا ہوں
ہر پتھر سے چھپ کے زمانے کو برا کہتا ہوں
میرا ٹھکانہ اب کہیں نہیں ہے پِنہاں
میں ایک بنجارہ سا خود کی تلاش میں رہتا ہوں
مجھ سے کہنے کی بات اب نہیں کوئی خاص
ایک افسانہ ایک حقیقت میں خود سے بھی بدظن رہتا ہوں
نہ کوئی ادھورا سچ نہ مکمل جھوٹ
یہ ایک خاموش سا منظر، جس کے روبرو میں
لکھتے لکھتے تھک کر باآوازِبلند شہادت دیتا ہوں
میرا اختطام تم لکھ دو
میں اسے تسلیم کر لیتا ہوں
تم مجھے سنبھال لینا
میں تمھیں یہ حق بھی دیتا ہوں
میں خود سے لڑ کر اب گمسن سا رہتا ہوں
کچھ نئے تو کچھ پرانے ناموں کے حرف لکھتا رہتا ہوں
تم مجھ سے بدظن ہرگز نہ رہو 
میں تم سے اپنی اور خود سے تمہاری بات کب کہتا ہوں؟
اب سمجھنے کی بات ایک ہی ہے ہمدم
میں خود کی ساختہ جنت میں سکوں سے اس حجوم میں رہتا ہوں

Tuesday, November 1, 2016

امیدِ فکر


چہروں پہ لکھی کہانیاں

ایک ایک کرکے تمام خاموشاں

ایاں ہوتی رہی تو کچھ بیاں کرتی گئیں

ذکر رہا اُن لمہوں کا


گزرنے کا جن کے احساس


اک بازگشت کی طرح


دہراتا ہے بار بار ہر بار


کہنے کو ایک سرگوشی


پر وقت کی کہی وہ مدھم سی بات 


دہرانے سے پہلے


تو کبھی


سننے کے بعد


اس موڑ پہ


کھڑے منتظر لمہے


وہ تمام ہمسفر


اپنی اپنی تھکان کا بوجھ لئیے


ایک ساتھ


تنہا تنہا رواں 


جانبِ منزل


جستجوِ جاں میں مگن


کفنِ جاں کے منتظر 


سفرِ مسلسل کے اختطام سے پہلے


اس جسم و جاں کے حساب سے پہلے


کہنے کی جو بات ہے


وہ صرف اتنی


ایک بے راہ کا ساتھ چاہئے


بے من کے انتظار میں فقت

تیرے اجالے کا دیدار چاہیۓ

Monday, October 24, 2016

میں!

خود کبھی گرفتار نہ ہوسکا جو اپنے اندازِ گفتار میں
میں اُسی ادھوری داستان کی ایک مکمل کتاب ہوں۔

Monday, October 3, 2016

تنہائیوں کے ہجوم میں

میں آج  خود سے دور اس حجوم میں بیٹھا ہوں
وقت کا ہر لمہہ میرے تعاقب میں مجھے ڈھونڈتا ہے

ہمذات مجھ سے مخاطب ہے سرِ محفل  تنہائی میں
ذکر رہا ہےکچھ ذہن کےفتور کچھ اپنے بےجاغرور کا

یاد کر رہا ہوں خوشی کےوہ لمہے شبِ تنہا ئی میں
لُٹا چکاہوں جو پل تلاشِ منزل کی جستجو میں اک صبح میں

تجھ سے بات کرنے کو در و دیوار ہی تو تھے ضرف میرے پاس
اب کامرانیاں مجھے ہجھوم میں اکیلا کیئےجاتی ہیں بار بار

میں اکیلا ہی رواں ہوں اپنے خدا کی تلاش میں اب
اک حقیقت سے بھاگ کر اک حقیقت کی تلاش میں

میرے سجدوں کو بخش دو اک گناہ کی تعبیرتم بھی
میں مسجودِ تکبر ہوں کوئی رعیا کار نہیں ہوں میں






Thursday, September 29, 2016

کسک

دل کے مسافات میں کہیں آج
پھر امید لاپتہ بھٹکتی ہے
پھر اک ہنگامہ ہے
سکوں کی تلاش میں گمسم سا میں
یادوں کے درمیاں 
اک خاموش تماشہ بنے بیٹھا ہوں
مجھ سے الجھتی 
خود سے لڑ تی اک سوچ
وقت سے کنارہ کش ہوکر
پھر بھٹکنے کا ارادہ رکھے ہے
جانے انجانے میں پھر میں
اُن منزلوں کی جانب رواں ہوں
جن خرابوں سے وابستہ
وہ اک شام 
بار بار اپنا روپ بدل بدل کر
مجھ سے ملتی ہے
میرے کہنے سے جو وقت
رک جاتا کبھی
آج اِس قدر خود سے دور اک ویرانہ نہ ہوتا
اک بیانباں کا ذکر کرتی ہے اب دنیا
اک میرا اور ایک تمھارا نام 
بدل بدل کر لوگ  سکوں و انتشار کا
ذکر کرتے ہیں
کبھی مجھ سے پوچھ کر 
کبھی مجھ سے روٹھ کر
چلے جانے والوں کا پتہ
پوچھتا ہے وقت
کہیں اندھیرے کونے میں چھپی
وہ کسک آج بھی بھٹک کر
میرے پاس آجاتی ہے