Wednesday, January 8, 2020

ساتھ ساتھ

دیکھو ہم رواں ہیں

زندگی کی رو میں ہم دونوں 

رواں ہیں

غم سے دور مسکراہٹوں کے شہر میں

امید کی راہ پہ ہم رواں ہیں

تمہاری نظر اور میری فکر

ایک سوچ کا جھروکا

دور کر رہا ہے میرے کل کو

میرے آج سے

میری سوچ سے سمٹ رہی ہے

میر ے کل کی وہ امید 

جس کے پل پل میں 

تم ہو ، میں ہوں 

اور ہمارے درمیان کا ایک رکا ہوا یہ اک پل ہے

جس سے میں جدا ہو رہا ہوں رفتا رفتا

تنہا تنہا

تھام لو مجھے تم  پھر ایک بار 

اُس ہی طرح سے

جیسے تم ہی تو ہو وہ

جسے میں سونپ دوں اپنے 

زمیں آسماں

اپنا آج اور کل اور کل کے بعد کے وہ تمام دن

اور راتیں

جن کو تراش رہا ہوں میں اپنے وجود میں کھو کر

ذرا ذرا اور لمحہ لمحہ 

کچھ اس طرح

جیسے تمھارا نام گنگنا رہا ہوں 

ایک مایوس خدا کی طرح

جس کا آج اور کل

تاریک ہے 

اک رات کی مسلسل خاموشی کی طرح

جس میں ہم چلے جا رہے ہیں

اک انجان رہ گزر پر 

ساتھ ساتھ ایک ساتھ 

ہم رواں ہیں

Monday, November 4, 2019

خود سے

میں خود کو کہتے سنتا ہوں

جب خود سے جھوٹ کہتا ہوں 

تم سے ملنے کو سکھ کہتا ہوں 

اور گمسم گمسم سا رہتا ہوں

خود سے لڑ کر اب بھی میں

تم سا ہی تو دِکھتا ہوں

جب سے اپنا نام گما یا

میں بھی ڈھونگی بن کر رہتا ہوں

مجھ سے پوچھو میرا پتہ

اب میں کس کے در پہ رہتا ہوں

اک ٹوٹا پھوٹا بوسیدہ سا خالی گھر ہے میرا

جس میں رب رب کرتا رہتا ہوں

باتوں سے میری تنگ نہ ہونا تم

میں خود سے بیگانہ جھومتا رہتا ہوں

جان سکو تو جان لو تم سے پھر کہتا ہوں

میں اک اک پل میں برسوں رہتا ہوں

تم سے پوچھیں گے سکھ دکھ دینے والے

میں کون ہوں تیرا جب جب میں تنہا رہتا ہوں

میں خود سر سا خود میں رہنے والا

اب تم سے یہ کہتے سنتا ہوں

میں تیرے آج میں رہتا ہوں  

کل میں رہتا ہوں

تیرے پل پل میں رہتا ہوں





Saturday, March 30, 2019

تم بھی وہی ہو

تم بھی وہی ہو

جو مجھ سا نہیں

تم خوش تو ہو نا؟

تم خوش تو ہو نا؟

ہاں بہت

مگر

کبھی کبھی اک یاد

ستاتی ہے

کاش تم بھی چاہتے 

اپنے جنوں

اپنے سپنوں کی طرح

تم کہو

تم تو خوش ہو نا!

ہاں 

لیکن 

اک سوچ تنہا کر دیتی ہے

اکثر

بھیڑ میں

مسکراہٹوں کے اجالوں میں

بادلوں میں

تمہارے خیالوں میں

اور میں پھر کھو جاتا ہوں

وقت کے 

ادھورے خوابوں کے

اَن ہی بازاروں میں

تم کہو

کیا اب بھی 

آنکھیں موندے 

یاد کرتے ہو؟

خوش رہتے ہو؟

ہاں اکثر 

تنہائی کی محفلوں میں

خودی کے سلسلوں میں

انجانے سوالوں میں

خوش تو رہتا ہوں

پر کبھی کبھی

اک سوچ پوچھتی ہے

خوش تو ہو نا؟

تم سے بچھڑ کر

تم سے مُکر کر

مسکراہٹ میں دبی

اک اداس سوچ کی طرح

جس کی نہ منزل کوئی

جس کا نہ راستہ کوئی

ایک گونجتی انا کی طرح

مجھ سے  کہتی ہے

تم خوش تو ہو نا؟





Sunday, January 6, 2019

Sad Souls

Stepping away from our realities

walking towards an untamed future

Looking at the stars, I am holding time for a while

Just to hold your hand for just a little while more

And I say to myself, a little more...

Monday, January 8, 2018

داستانِ غم

مجھے تنہا چھوڑ کے تم اک دن
مکمل کر گئے میری داستا نِ حیات 
میں اب کس نام سے پکاروں تمھیں
جنوں کااک مسلسل ساماں کرگئے تم

نا مکمل

دل کے ہر گوشے پہ تمہارا نام لکھا ہے
میں آج بھی انگنت ٹکٹروں میں بٹا ہوں

Wednesday, November 15, 2017

آنکھیں

اُف وہ آنکھیں آج بھی بہت یاد آتی ہیں
میں جن  میں اپنے خواب ڈھونڈ لیا کرتا تھا

Wednesday, October 4, 2017

تم جا تو رہے ہو

تم جا تو رہے ہو
پر اتنا بتاتے جاؤ
مجھے کس کے سہارے
چھوڑے جارہے ہو؟
جانا ہی ہے تو
یہ سب بھی لیتے جاؤ
جو تمھارے بنا ادھورے ہیں
یہ شام
یہ مسکراہٹوں کی دھنک
یہ پل دو پل کا ساتھ
جس میں ہر بار تم نے
اقرار کیا
 یہی کہہ کر نہ کہ
نہیں، نہیں
تم جا تو رہے ہو
پر اتنا تو کرتے جاؤ 
کہ بس
لکھ دو۔۔۔ 
میرا نام
اپنے نام کے ساتھ