Tuesday, January 4, 2022

خود غرض

خودغرض

میں سو نہیں پاتا

میں خواب دیکھتا ہوں

خواب میں تمھیں دیکھتا ہوں

تمھاری باہوں میں خود کو دیکھتا ہوں

لپٹا ہوا ساکن بے جان سا

خود کو دیکھتاہوں

میں خود میں خود غرض دیکھتا ہوں

میں خود کو تم سے جدا دیکھتا ہوں

خود کو تنہا دیکھتا ہوں

خود کو لاپتہ دیکھتاہوں

میں خود کو خود میں دیکھتاہوں

خود میں تجھ کو دیکھتا ہوں 

مئں سو نہیں پاتا

میں خواب دیکھتا ہوں

Sunday, November 21, 2021

سوچوں کے شور میں

 سوچوں کے شور میں

قدموں کی آہٹ سے  جڑی دھڑکنوں میں

کچھ اس طرح کہ خاموشیاں انجان ہیں

تم اب نہیں ہو گماں میں میرے مگر

تم سا کوئی ہے بہروپ میں خاموش گر 

Thursday, January 14, 2021

میں کون ہوں؟

 ‎میں جل رہا ہوں جس آگ میں سرِشام سے

سلگ رہی ہے مجھ میں مشعلِ راہ کی طرح 


‎ آنسوؤں سے بجھ نہ سکے پیاس صبح نو تک

سحر کے ٹوٹنے کاساماں ہوں یا ڈھلتاآفتاب ہوں


میں جنوں ہوں اک تیری سوچ کے سراب کا

وحشتوں میں کھویا ہوا نہ خیال ہوں نہ قرار ہوں


ملنے کی آس اور بچھڑنے کے گمان کے درمیاں

 تلاشِ امیدِ نشاں ہوں اور بس منتظرِ گماں ہوں

Wednesday, February 19, 2020

کیسے 

تم سے کہوں تو کیسے

تم سے سنوں تو کیسے

لب خاموش ہیں

اور انتشار ہے درمیاں

میں فلک سے مانگ لوں تمھیں

کیسے

میرے خدا کی پرچھائی ہو تم

بت شکن بن جاؤں میں کیسے

تم سے کہوں تو کیسے

تم سے سنوں تو کیسے


Wednesday, February 12, 2020

میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں

میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں

میں آج بھی خود سے ہارا نہیں ہوں

اس مسلسل کشمکش کا فاتح رہوں گا میں

میرے وجود کا ہر پل مجھ سے کہتا ہے

خود کو اپنے قرب سے اتنا دور نہ کر

کہ تیری رونقیں کہ تیری مہفلیں تجھ سے

انجان ہوں، اور تو اپنا خود مہمان ہو 

میرے آج کل

میں کیسے کہوں

کہ اب تمہاری ضرورت نہیں

میرے شب و روز اب اداس نہیں

میں اب  مسکرا سکتا ہوں

میرے دل کو نہ جنوں ہے کوئی

نہ سوچ کو کوئی وہم

میں مست ہوں اپنے خدا  کیساتھ 

دن رات 

تنہا تنہا

Tuesday, February 4, 2020

The Ruines of My Heart

You live in my thoughts and you live around me, you make me happy, you make me smile, you make my day and my nights worth living for, away from everyone and everywhere, 

In the ruines of my heart.

Deep inside, alone in the darkness 

Your voice echoes in the hollowness of my heart, beating slowly,

in the ruines of my heart.

The shadows of time and the stillness of my voice

Mimicks the moments I spent with you, 

I charish them all 

Silently, in the ruines of my heart. 

The warmth of your touch 

and the softness of your voice 

reminds me of the days and nights, 

when I was the king of my thoughts 

Now I am just a prisoner of time 

in the ruines of my heart

I deceive my faith with a borrowed smile

hiding the sorrows of tomorrow and I,

Keep on building fences around you and I, in the ruines of my heart 

it makes me sad to know that you live here, alone without me 

With no hope nor any desire to return 

So I keep it vacant and empty, in the ruines of my heart

in the ruines of my heart, 

I keep a memory of you 

A smile to share, a moment to remember

Deep inside me, a place to live in the ruines of my heart.... 

Wednesday, January 8, 2020

ساتھ ساتھ

دیکھو ہم رواں ہیں

زندگی کی رو میں ہم دونوں 

رواں ہیں

غم سے دور مسکراہٹوں کے شہر میں

امید کی راہ پہ ہم رواں ہیں

تمہاری نظر اور میری فکر

ایک سوچ کا جھروکا

دور کر رہا ہے میرے کل کو

میرے آج سے

میری سوچ سے سمٹ رہی ہے

میر ے کل کی وہ امید 

جس کے پل پل میں 

تم ہو ، میں ہوں 

اور ہمارے درمیان کا ایک رکا ہوا یہ اک پل ہے

جس سے میں جدا ہو رہا ہوں رفتا رفتا

تنہا تنہا

تھام لو مجھے تم  پھر ایک بار 

اُس ہی طرح سے

جیسے تم ہی تو ہو وہ

جسے میں سونپ دوں اپنے 

زمیں آسماں

اپنا آج اور کل اور کل کے بعد کے وہ تمام دن

اور راتیں

جن کو تراش رہا ہوں میں اپنے وجود میں کھو کر

ذرا ذرا اور لمحہ لمحہ 

کچھ اس طرح

جیسے تمھارا نام گنگنا رہا ہوں 

ایک مایوس خدا کی طرح

جس کا آج اور کل

تاریک ہے 

اک رات کی مسلسل خاموشی کی طرح

جس میں ہم چلے جا رہے ہیں

اک انجان رہ گزر پر 

ساتھ ساتھ ایک ساتھ 

ہم رواں ہیں

Monday, November 4, 2019

خود سے

میں خود کو کہتے سنتا ہوں

جب خود سے جھوٹ کہتا ہوں 

تم سے ملنے کو سکھ کہتا ہوں 

اور گمسم گمسم سا رہتا ہوں

خود سے لڑ کر اب بھی میں

تم سا ہی تو دِکھتا ہوں

جب سے اپنا نام گما یا

میں بھی ڈھونگی بن کر رہتا ہوں

مجھ سے پوچھو میرا پتہ

اب میں کس کے در پہ رہتا ہوں

اک ٹوٹا پھوٹا بوسیدہ سا خالی گھر ہے میرا

جس میں رب رب کرتا رہتا ہوں

باتوں سے میری تنگ نہ ہونا تم

میں خود سے بیگانہ جھومتا رہتا ہوں

جان سکو تو جان لو تم سے پھر کہتا ہوں

میں اک اک پل میں برسوں رہتا ہوں

تم سے پوچھیں گے سکھ دکھ دینے والے

میں کون ہوں تیرا جب جب میں تنہا رہتا ہوں

میں خود سر سا خود میں رہنے والا

اب تم سے یہ کہتے سنتا ہوں

میں تیرے آج میں رہتا ہوں  

کل میں رہتا ہوں

تیرے پل پل میں رہتا ہوں