بہت مدھم سی صدا آتی ہے، دل میں بسا لو مجھکو
Monday, March 20, 2017
جاناں سے
بہت مدھم سی صدا آتی ہے، دل میں بسا لو مجھکو
Saturday, December 31, 2016
خواب گر
درد کے موسم میں ایک اور اکیلی شام ڈھلی ہے
یادوں کے ساون آئے ہیں اداسیوں کی جھڑی لگی ہے
خود سے دورکہیں تنہا بیٹھا میں تجھ سے کہتا ہوں
میرے خواب گر مجھے بخش دے اپنے مکمل زمیں آسماں
شعور و لاشعور کے درمیاں عقل و فہم سے دور دور
میں تیری تلاش میں گم دیوانہ وار خود سے ہمکلام ہوں
مجھے تھام لو وقت کے اس جھونکے میں اک بار پھر
میں سمٹ رہا ہوں اپنی انا کی کی یکجائی میں اک بار پھر
Tuesday, December 20, 2016
خود فریبی
روک لو وقت کو تھام کے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں آج تم
بہک نہ جاؤں وقت کےاس دھارے میں آج پھر میں تنہا
میری آنکھوں میں بسے خواب دیکھو اک بار تم بھی
اک جہاں ہے موسم کی طرح بدلتا روز و شب کسطرح
میری روح کی حقیقت عیاں ہے میری مسکراہٹوں میں
اک تماشہ ہے سو دیکھ لو جی بھر کے آج تم بھی
دل میں چھپی مسکان کاکسے علم نہیں
سب رازداں ہیں گورکن کے شہر میں
اس بجھے دل میں اب تیری یاد کہاں بھٹکتی ہے کبھی
اک بازگشت ہےگئے دنوں کی جسے بلاۓ جارہا ہوں میں مسلسل
میں کیسے کہہ دوں کہ تم سے مہبت نہیں ہےاب مجھے
سچ کا سامنا کرنےکاحوصلہ نہ میرے پاس ہے نہ تیرے پاس
میں خود سے جھوٹ کہتا ہوں اب اکثر تنہائی میں
وہ میرا ہمسفر تھا عمر بھر کا بے وفا ہرگز نہ تھا
میری آنکھیں آج بھی اُس کے خواب دیکھتی ہیں
وہ میرے پاس ہے گویا ہر شام پہلے ہی کی طرح
اس دل کو سمجھانے کی صرف بات نہیں ہے اے ہمدم
اب کچھ سوال یہ بھی پوچھتا ہے بددل ہو کر کبھی کبھی
تم مجھے یاد نہ آؤ اب یہی مناسب ہے
اس درد کے رشتے کو کب تک نبھائیں گے
میری سوچ پہ حاوی آج بھی وہی حقیقت ہے
خاموش مسکراہٹ اجاڑآنکھیں اور چند بھٹکےآنسو
غمِ جاں سے وابستہ
رنجشوں کے ہجوم سے نکل کر دیکھ اپنے روبرو
تو الفت کے سرہانے پڑی اک خواہش کا امین ہے
تیری پاکیزگی کی قسم کھانےکو تیار ہے وقت اب بھی
جو چلا گیااسےیاد کر اور پھر بھول جا اک خواب کی طرح
وقتِ رخصت مجھ سے لپٹ کے رویا تھا وہ اِس طرح
کہ حرجائی بھی میں ہوں منافق اور بےوفا بھی میں
میری آوراگی کچھ تو تیری شہرت کا بھی سبب بنےگی
تُو کس کس سےچھپائےگا دیوانہ ہے اک، صرف تیرےنام کا
عہدِ وفا کا تقاصہ ہے کے خاموش رہوں میں بھی
اک دل کے ٹوٹنے کی فقط بات نہیں ہے یہ صرف
مجھ سے مانگا ہے وفاؤں کا حساب تم نے آج پھر
دل کی دھڑکنوں سے پوچھ لو ان کی زباں کیا ہے
میرے خواب و خیال میں بسے ہو تم اس قدر سچائی سے
اب حقیقت اک مسلسل فریب محسوس ہوتی ہے گویا مجھے
میری امیدوں کا اک کارواں رواں ہے تیری جستجو میں
بھٹک جاتا ہوں میں اکثرستاروں کی راہ شناسائی میں اےہمدم
وابستہ ہے میرا عشق تیرے نام کیساتھ اس قدر جانِ جاں
میں خود سے بھی فریب کروں اگر تو یقیں نہیں آتا مجھے
کل کی خبر کس نے رکھی ہے آج تک اِس جنوں میں
اک تیرے نام کا سہارا لیئےزندگی کو جئیے جارہا ہوں
غمِ الفت نہ سہی اور بھی غمِ جاں ہیں ہمیں نبھانے کو
اک مسکراہٹ ہے تمہارے نام سے وابستہ سو بدنام ہیں
میرے وجود کا ایک مکمل حصہ تم بھی تو ہو میری جاں
میں خود کو جھٹلاؤں اور بھول جاؤں اب یہی مناسب ہے
Tuesday, December 6, 2016
سچ!
دل میں احساسِ ندامت لیۓ جا رہا ہوں آج میں
اک نئی امیدِ صحر کی تلاش میں بھٹک کر گویا
جذبوں میں اب سچائ کہاں رہی ہمارے درمیاں
تم سے سچ کہوں مہبت تو اک بہانہ ہے مِلن کا
Thursday, November 24, 2016
چند سوچیں
Sunday, November 20, 2016
شیطان ہمکلام ہے
شیطان مجھ سے مخاطب ہے
بلاتا ہے بار بار مجھے
کہتا ہے قدم اٹھانے کو ایک بار مجھے
میں تجھ کو سنبھال لونگا بڑھ کے
تُو میری طرف قدم توَ اٹھا ایک بار
مجھ سے کہتا ہے بھیس بدل بدل کہ وہ
کبھی دل میں چھپ کر تو کبھی سامنے بیٹھ کر
میں خود کے بنائے اس حصار سے ڈرتا ہوں
کہیں جل نہ جائیں میرے قدم
اُس کا ہمقدم بننے سے پہلے
میں ڈرتا ہوں اس کے دکھاوۓ سے
کہیں یہ فقط ایک خواب ہی نہ ہو
دل و جاں کے اس امتحان سے پہلے
اس عملِ نافرمان سے پہلے
آزما لوں میں اپنا ایمان ایک بار پھر
اگر یہ آزمائش ہوئی پھر سے
اب کی بار میں بھی
قدم بہ قدم بڑھ جاؤں گا اس کی طرف
پھر وہ منزلیں میری تلاش میں ہونگی
پھر میرا طواف کریں گی یہ آزمائشیں
تھک جائیں گی اب کی بار
نامراد اس بار
اور میں سمٹ جاؤں گا اُس کی آخوش میں
خاموشی کے ساتھ
بھٹکتے لمہے
رسمِ الفت ہی سہی اک رشتہ تو ہے تجھ سے
میں تیرا وفادار نہ سہی ہرجائی بھی نہیں ہوں
وقت کے قدم لمہہ لمہہ آگے بڑھ رہے ہیں تیری طرف
اک وفا کا پُل ہے جسے سوچ کر خود ہی عبور کرنا ہے
میرےمحسن مجھےکہتے ہیں لوٹ جا خاموشی سے واپس
تو بھٹک گیا ہے خوامخواہ دل کے بہلانے کو آج پھر اک بار
بے نام سا رشتہ
میری نظرسےجو خود کو دیکھو گےکبھی چھپ کر
تم بھی بہک جاؤ گے اس بیابان میں میرے ساتھ
دل میں چھپی تمنا اور ایک بےنام سا یہ رشتہ
اس لاتعلق سے رشتے کو نام دے کر انجام نہ دو
میں خود سے دور اک الگ ہی دنیا میں رہتا ہوں
مجھ سے الجھنے سے پہلے میری دنیا تو دیکھو
میرے کہنے یا تیرے سننے کی بات ہرگز نہیں ہے یہ اے ہمدم
میں تم سےاورتم مجھ سے شاید یہ کبھی کہہ بھی نہ پائیں گے
میری سوچ پہ اب اُس کی اجارہ داری ہے آج کل
میں وقت کی طرح ٹھہر گیا ہوں جیسے اُس کے روبرو
