Wednesday, February 19, 2020

کیسے 

تم سے کہوں تو کیسے

تم سے سنوں تو کیسے

لب خاموش ہیں

اور انتشار ہے درمیاں

میں فلک سے مانگ لوں تمھیں

کیسے

میرے خدا کی پرچھائی ہو تم

بت شکن بن جاؤں میں کیسے

تم سے کہوں تو کیسے

تم سے سنوں تو کیسے


Wednesday, February 12, 2020

میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں

میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں

میں آج بھی خود سے ہارا نہیں ہوں

اس مسلسل کشمکش کا فاتح رہوں گا میں

میرے وجود کا ہر پل مجھ سے کہتا ہے

خود کو اپنے قرب سے اتنا دور نہ کر

کہ تیری رونقیں کہ تیری مہفلیں تجھ سے

انجان ہوں، اور تو اپنا خود مہمان ہو 

میرے آج کل

میں کیسے کہوں

کہ اب تمہاری ضرورت نہیں

میرے شب و روز اب اداس نہیں

میں اب  مسکرا سکتا ہوں

میرے دل کو نہ جنوں ہے کوئی

نہ سوچ کو کوئی وہم

میں مست ہوں اپنے خدا  کیساتھ 

دن رات 

تنہا تنہا

Tuesday, February 4, 2020

The Ruines of My Heart

You live in my thoughts and you live around me, you make me happy, you make me smile, you make my day and my nights worth living for, away from everyone and everywhere, 

In the ruines of my heart.

Deep inside, alone in the darkness 

Your voice echoes in the hollowness of my heart, beating slowly,

in the ruines of my heart.

The shadows of time and the stillness of my voice

Mimicks the moments I spent with you, 

I charish them all 

Silently, in the ruines of my heart. 

The warmth of your touch 

and the softness of your voice 

reminds me of the days and nights, 

when I was the king of my thoughts 

Now I am just a prisoner of time 

in the ruines of my heart

I deceive my faith with a borrowed smile

hiding the sorrows of tomorrow and I,

Keep on building fences around you and I, in the ruines of my heart 

it makes me sad to know that you live here, alone without me 

With no hope nor any desire to return 

So I keep it vacant and empty, in the ruines of my heart

in the ruines of my heart, 

I keep a memory of you 

A smile to share, a moment to remember

Deep inside me, a place to live in the ruines of my heart.... 

Wednesday, January 8, 2020

ساتھ ساتھ

دیکھو ہم رواں ہیں

زندگی کی رو میں ہم دونوں 

رواں ہیں

غم سے دور مسکراہٹوں کے شہر میں

امید کی راہ پہ ہم رواں ہیں

تمہاری نظر اور میری فکر

ایک سوچ کا جھروکا

دور کر رہا ہے میرے کل کو

میرے آج سے

میری سوچ سے سمٹ رہی ہے

میر ے کل کی وہ امید 

جس کے پل پل میں 

تم ہو ، میں ہوں 

اور ہمارے درمیان کا ایک رکا ہوا یہ اک پل ہے

جس سے میں جدا ہو رہا ہوں رفتا رفتا

تنہا تنہا

تھام لو مجھے تم  پھر ایک بار 

اُس ہی طرح سے

جیسے تم ہی تو ہو وہ

جسے میں سونپ دوں اپنے 

زمیں آسماں

اپنا آج اور کل اور کل کے بعد کے وہ تمام دن

اور راتیں

جن کو تراش رہا ہوں میں اپنے وجود میں کھو کر

ذرا ذرا اور لمحہ لمحہ 

کچھ اس طرح

جیسے تمھارا نام گنگنا رہا ہوں 

ایک مایوس خدا کی طرح

جس کا آج اور کل

تاریک ہے 

اک رات کی مسلسل خاموشی کی طرح

جس میں ہم چلے جا رہے ہیں

اک انجان رہ گزر پر 

ساتھ ساتھ ایک ساتھ 

ہم رواں ہیں

Monday, November 4, 2019

خود سے

میں خود کو کہتے سنتا ہوں

جب خود سے جھوٹ کہتا ہوں 

تم سے ملنے کو سکھ کہتا ہوں 

اور گمسم گمسم سا رہتا ہوں

خود سے لڑ کر اب بھی میں

تم سا ہی تو دِکھتا ہوں

جب سے اپنا نام گما یا

میں بھی ڈھونگی بن کر رہتا ہوں

مجھ سے پوچھو میرا پتہ

اب میں کس کے در پہ رہتا ہوں

اک ٹوٹا پھوٹا بوسیدہ سا خالی گھر ہے میرا

جس میں رب رب کرتا رہتا ہوں

باتوں سے میری تنگ نہ ہونا تم

میں خود سے بیگانہ جھومتا رہتا ہوں

جان سکو تو جان لو تم سے پھر کہتا ہوں

میں اک اک پل میں برسوں رہتا ہوں

تم سے پوچھیں گے سکھ دکھ دینے والے

میں کون ہوں تیرا جب جب میں تنہا رہتا ہوں

میں خود سر سا خود میں رہنے والا

اب تم سے یہ کہتے سنتا ہوں

میں تیرے آج میں رہتا ہوں  

کل میں رہتا ہوں

تیرے پل پل میں رہتا ہوں





Saturday, March 30, 2019

تم بھی وہی ہو

تم بھی وہی ہو

جو مجھ سا نہیں

تم خوش تو ہو نا؟

تم خوش تو ہو نا؟

ہاں بہت

مگر

کبھی کبھی اک یاد

ستاتی ہے

کاش تم بھی چاہتے 

اپنے جنوں

اپنے سپنوں کی طرح

تم کہو

تم تو خوش ہو نا!

ہاں 

لیکن 

اک سوچ تنہا کر دیتی ہے

اکثر

بھیڑ میں

مسکراہٹوں کے اجالوں میں

بادلوں میں

تمہارے خیالوں میں

اور میں پھر کھو جاتا ہوں

وقت کے 

ادھورے خوابوں کے

اَن ہی بازاروں میں

تم کہو

کیا اب بھی 

آنکھیں موندے 

یاد کرتے ہو؟

خوش رہتے ہو؟

ہاں اکثر 

تنہائی کی محفلوں میں

خودی کے سلسلوں میں

انجانے سوالوں میں

خوش تو رہتا ہوں

پر کبھی کبھی

اک سوچ پوچھتی ہے

خوش تو ہو نا؟

تم سے بچھڑ کر

تم سے مُکر کر

مسکراہٹ میں دبی

اک اداس سوچ کی طرح

جس کی نہ منزل کوئی

جس کا نہ راستہ کوئی

ایک گونجتی انا کی طرح

مجھ سے  کہتی ہے

تم خوش تو ہو نا؟





Sunday, January 6, 2019

Sad Souls

Stepping away from our realities

walking towards an untamed future

Looking at the stars, I am holding time for a while

Just to hold your hand for just a little while more

And I say to myself, a little more...