تم سے کہوں تو کیسے
تم سے سنوں تو کیسے
لب خاموش ہیں
اور انتشار ہے درمیاں
میں فلک سے مانگ لوں تمھیں
کیسے
میرے خدا کی پرچھائی ہو تم
بت شکن بن جاؤں میں کیسے
تم سے کہوں تو کیسے
تم سے سنوں تو کیسے
تم سے کہوں تو کیسے
تم سے سنوں تو کیسے
لب خاموش ہیں
اور انتشار ہے درمیاں
میں فلک سے مانگ لوں تمھیں
کیسے
میرے خدا کی پرچھائی ہو تم
بت شکن بن جاؤں میں کیسے
تم سے کہوں تو کیسے
تم سے سنوں تو کیسے
میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں
میں آج بھی خود سے ہارا نہیں ہوں
اس مسلسل کشمکش کا فاتح رہوں گا میں
میرے وجود کا ہر پل مجھ سے کہتا ہے
خود کو اپنے قرب سے اتنا دور نہ کر
کہ تیری رونقیں کہ تیری مہفلیں تجھ سے
انجان ہوں، اور تو اپنا خود مہمان ہو
میں کیسے کہوں
کہ اب تمہاری ضرورت نہیں
میرے شب و روز اب اداس نہیں
میں اب مسکرا سکتا ہوں
میرے دل کو نہ جنوں ہے کوئی
نہ سوچ کو کوئی وہم
میں مست ہوں اپنے خدا کیساتھ
دن رات
تنہا تنہا
You live in my thoughts and you live around me, you make me happy, you make me smile, you make my day and my nights worth living for, away from everyone and everywhere,
In the ruines of my heart.
Deep inside, alone in the darkness
Your voice echoes in the hollowness of my heart, beating slowly,
in the ruines of my heart.
The shadows of time and the stillness of my voice
Mimicks the moments I spent with you,
I charish them all
Silently, in the ruines of my heart.
The warmth of your touch
and the softness of your voice
reminds me of the days and nights,
when I was the king of my thoughts
Now I am just a prisoner of time
in the ruines of my heart
I deceive my faith with a borrowed smile
hiding the sorrows of tomorrow and I,
Keep on building fences around you and I, in the ruines of my heart
it makes me sad to know that you live here, alone without me
With no hope nor any desire to return
So I keep it vacant and empty, in the ruines of my heart
in the ruines of my heart,
I keep a memory of you
A smile to share, a moment to remember
Deep inside me, a place to live in the ruines of my heart....
دیکھو ہم رواں ہیں
زندگی کی رو میں ہم دونوں
رواں ہیں
غم سے دور مسکراہٹوں کے شہر میں
امید کی راہ پہ ہم رواں ہیں
تمہاری نظر اور میری فکر
ایک سوچ کا جھروکا
دور کر رہا ہے میرے کل کو
میرے آج سے
میری سوچ سے سمٹ رہی ہے
میر ے کل کی وہ امید
جس کے پل پل میں
تم ہو ، میں ہوں
اور ہمارے درمیان کا ایک رکا ہوا یہ اک پل ہے
جس سے میں جدا ہو رہا ہوں رفتا رفتا
تنہا تنہا
تھام لو مجھے تم پھر ایک بار
اُس ہی طرح سے
جیسے تم ہی تو ہو وہ
جسے میں سونپ دوں اپنے
زمیں آسماں
اپنا آج اور کل اور کل کے بعد کے وہ تمام دن
اور راتیں
جن کو تراش رہا ہوں میں اپنے وجود میں کھو کر
ذرا ذرا اور لمحہ لمحہ
کچھ اس طرح
جیسے تمھارا نام گنگنا رہا ہوں
ایک مایوس خدا کی طرح
جس کا آج اور کل
تاریک ہے
اک رات کی مسلسل خاموشی کی طرح
جس میں ہم چلے جا رہے ہیں
اک انجان رہ گزر پر
ساتھ ساتھ ایک ساتھ
ہم رواں ہیں
میں خود کو کہتے سنتا ہوں
جب خود سے جھوٹ کہتا ہوں
تم سے ملنے کو سکھ کہتا ہوں
اور گمسم گمسم سا رہتا ہوں
خود سے لڑ کر اب بھی میں
تم سا ہی تو دِکھتا ہوں
جب سے اپنا نام گما یا
میں بھی ڈھونگی بن کر رہتا ہوں
مجھ سے پوچھو میرا پتہ
اب میں کس کے در پہ رہتا ہوں
اک ٹوٹا پھوٹا بوسیدہ سا خالی گھر ہے میرا
جس میں رب رب کرتا رہتا ہوں
باتوں سے میری تنگ نہ ہونا تم
میں خود سے بیگانہ جھومتا رہتا ہوں
جان سکو تو جان لو تم سے پھر کہتا ہوں
میں اک اک پل میں برسوں رہتا ہوں
تم سے پوچھیں گے سکھ دکھ دینے والے
میں کون ہوں تیرا جب جب میں تنہا رہتا ہوں
میں خود سر سا خود میں رہنے والا
اب تم سے یہ کہتے سنتا ہوں
میں تیرے آج میں رہتا ہوں
کل میں رہتا ہوں
تیرے پل پل میں رہتا ہوں
ہاں بہت
مگر
کبھی کبھی اک یاد
ستاتی ہے
کاش تم بھی چاہتے
اپنے جنوں
اپنے سپنوں کی طرح
تم کہو
تم تو خوش ہو نا!
ہاں
لیکن
اک سوچ تنہا کر دیتی ہے
اکثر
بھیڑ میں
مسکراہٹوں کے اجالوں میں
بادلوں میں
تمہارے خیالوں میں
اور میں پھر کھو جاتا ہوں
وقت کے
ادھورے خوابوں کے
اَن ہی بازاروں میں
تم کہو
کیا اب بھی
آنکھیں موندے
یاد کرتے ہو؟
خوش رہتے ہو؟
ہاں اکثر
تنہائی کی محفلوں میں
خودی کے سلسلوں میں
انجانے سوالوں میں
خوش تو رہتا ہوں
پر کبھی کبھی
اک سوچ پوچھتی ہے
خوش تو ہو نا؟
تم سے بچھڑ کر
تم سے مُکر کر
مسکراہٹ میں دبی
اک اداس سوچ کی طرح
جس کی نہ منزل کوئی
جس کا نہ راستہ کوئی
ایک گونجتی انا کی طرح
مجھ سے کہتی ہے
تم خوش تو ہو نا؟
Stepping away from our realities
walking towards an untamed future
Looking at the stars, I am holding time for a while
Just to hold your hand for just a little while more
And I say to myself, a little more...