Thursday, October 24, 2024

تلاش

میں ڈھونڈتا ہوں جسے زندگی کی رانائیوں میں

وہ مجھ سے ملتا ہے شاموں کی تنہائیوں میں

Wednesday, September 4, 2024

بات

بات جفاؤں کی نہیں بات وفاؤں کی بھی نہں

بات تو اُس وقت کی ہے جو تنہائیوں میں گزرا

میں خود سے تنہا لڑتا رہا میں خود سے جھگڑتا رہا

بات تو اُس ہار کی ہے جو خود سےمیں ہارتا رہا

بات نہ کبھی محبت کی تھی نہ کنھی عداوت کی تھی

بات استعاروں کےسمجھنے کی تھی نہ کہ کہنے سننے کی تھی

ان لمحوں کے احساس کا اب کیا ماتم منائیں ہم

سوگوار دنوں کا حساب تیرے بس کی بات تھی نہ میرے بس کی

۲۰۲۴ ،ستمبر ۷


رشتہِ

یہ چاند اور شبنم

سحر اور دھنک 

تم سے رغبت کے یہ سلسلے

یہ ٹھرا ہوا وقت

یہ خاموش سی فضا

تم سے گفتگو کے چند بہانے ہی تو ہیں

یہ ادھوری باتیں

یہ بےغرض ملاقعاتیں

انجانے خوابوں کے تسلسل میں

چُھپی خوشبو کی اک بات

رنگوں سے عیاں بے رنگ سے چند خیال

محبت کے سلسلوں میں پھنسے

رشتوں کے بھنور سے پرے

کچھ دل کے پاس پاس

کچھ ذہن کے فتور سے دور دور

میرے تمہارے درمیان

جذبوں کےمدوجزر میں چھپا

سوال کرتا اک پہر

جسےنام نہ دو کسی رشتے کا

لامحدود سا یہ ایک تعلق

جس میں پریشاں نہ تم ہو نہ میں

رنجش کی کچھ ہی گنجائش رکھے

چند غم تمھارے 

کچھ ٹوٹے خواب میرے

تھوڑے تم بانٹھ لو

کچھ میں بکھیر دیتاہوں

وقت سے کچھ اور لمہے

میں چرا لیتا ہوں

کچھ تم سمیٹ لینا


عامر جہانگیر 

Wednesday, November 22, 2023

ایک وقت کی بات تھی

ایک وقت کی بات تھی

سو وہ وقت بھی آگیا

میں خود سے سوال کرتا رہا

میں خود کو خاموش سنتا رہا

نہ سچ  میں نے لکھا 

نہ سچ  مجھ سے کہا گیا

ایک وقت کی بات تھی 

سو وہ وقت بھی گزر گیا

میں اندھیروں میں خواب ٹٹولتا رہا

اور

وقت مجھے تراشتا رہا

میں وقت سے اور وقت مجھ سے کھیلتا رہا

خدا مجھ سے کہتا رہا

اور

میں خود سے خدا کا کام لیتا رہا

میں

بت توڑتا رہا

میں

بت بنتا رہا

ایک وقت کی بات تھی

سو یہ وقت  برسوں ٹہرا رہا ۔

Wednesday, January 4, 2023

!میرا وطن میری ماں

​!میرا وطن میری ماں

اس دھرتی کی ماؤوں نے اس دیس کو سجا یا ہے

اپنے لال و گوہر سے حسیں بنایا ہے 


اس مٹی میں کتنے انمول پھول کھلائے ہیں

اپنے خون و جگر سے مٹی کو زرخیز بنا یا ہے



دنیا میں تم کو اک شناخت دلائی ہے

سر اپنا سب سے اونچا اٹھا یا ہے 

اک شان دلائی ہے

اس کے دریا  اس کے صحرا 

اس کا چپا چپا

اس کی خوشبو اس کا زرہ زرہ 

جان و عدل سے عزیز 

اس کی خاطر حاظرِ ہے جان

اس کی خاطر سب قربان

یہ ہے میری ماں 

میں اس سے، یہ میری پہچان 

یہ ہی تو ہے میرا پاکستان 

یہ میرا دل یہ میری جان

یہ ہے میرا پاکستان 

دنیا میں میری پہچان میری آن

میری شان

میرا پاکستان ، میرا پاکستان 

Saturday, February 26, 2022

شبابِ جنوں


اپنی ذات میں گرفتار شخص دیکھا ہے

خود سے نا امید خدا ِ نامراد دیکھا ہے

جو بیاں نہ کرسکوں اپنا خیال تم سے

ایسا نا قابلِ حسبِ حال دیکھا ہے

نہ کہہ سکوں اور کہہ جاؤں اس طرح

خاموشی میں عجب یہ کمال دیکھا ہے

تم سے وابستہ لمحو ں کا حساب کیا لکھوں

قرض میں ڈوبا خود رہزنی کا جواب دیکھا ہے

میں تم سے کہوں بھی تو کیسے بھلا دل کا حال

ملالِ دل کیساتھ جنوں کا عالمِ شباب دیکھا ہے

Thursday, February 24, 2022

یہیں کہیں


وہ  نہیں ہے  پر لگتا ہے، یہیں کہیں ہے

تو ہے بھی اور لگتا ہے نہیں کہیں نہیں ہے 

Tuesday, January 4, 2022

خود غرض

خودغرض

میں سو نہیں پاتا

میں خواب دیکھتا ہوں

خواب میں تمھیں دیکھتا ہوں

تمھاری باہوں میں خود کو دیکھتا ہوں

لپٹا ہوا ساکن بے جان سا

خود کو دیکھتاہوں

میں خود میں خود غرض دیکھتا ہوں

میں خود کو تم سے جدا دیکھتا ہوں

خود کو تنہا دیکھتا ہوں

خود کو لاپتہ دیکھتاہوں

میں خود کو خود میں دیکھتاہوں

خود میں تجھ کو دیکھتا ہوں 

مئں سو نہیں پاتا

میں خواب دیکھتا ہوں

Sunday, November 21, 2021

سوچوں کے شور میں

 سوچوں کے شور میں

قدموں کی آہٹ سے  جڑی دھڑکنوں میں

کچھ اس طرح کہ خاموشیاں انجان ہیں

تم اب نہیں ہو گماں میں میرے مگر

تم سا کوئی ہے بہروپ میں خاموش گر 

Thursday, January 14, 2021

میں کون ہوں؟

 ‎میں جل رہا ہوں جس آگ میں سرِشام سے

سلگ رہی ہے مجھ میں مشعلِ راہ کی طرح 


‎ آنسوؤں سے بجھ نہ سکے پیاس صبح نو تک

سحر کے ٹوٹنے کاساماں ہوں یا ڈھلتاآفتاب ہوں


میں جنوں ہوں اک تیری سوچ کے سراب کا

وحشتوں میں کھویا ہوا نہ خیال ہوں نہ قرار ہوں


ملنے کی آس اور بچھڑنے کے گمان کے درمیاں

 تلاشِ امیدِ نشاں ہوں اور بس منتظرِ گماں ہوں

Wednesday, February 19, 2020

کیسے 

تم سے کہوں تو کیسے

تم سے سنوں تو کیسے

لب خاموش ہیں

اور انتشار ہے درمیاں

میں فلک سے مانگ لوں تمھیں

کیسے

میرے خدا کی پرچھائی ہو تم

بت شکن بن جاؤں میں کیسے

تم سے کہوں تو کیسے

تم سے سنوں تو کیسے


Wednesday, February 12, 2020

میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں

میں آج بھی خود سے لڑ رہا ہوں

میں آج بھی خود سے ہارا نہیں ہوں

اس مسلسل کشمکش کا فاتح رہوں گا میں

میرے وجود کا ہر پل مجھ سے کہتا ہے

خود کو اپنے قرب سے اتنا دور نہ کر

کہ تیری رونقیں کہ تیری مہفلیں تجھ سے

انجان ہوں، اور تو اپنا خود مہمان ہو 

میرے آج کل

میں کیسے کہوں

کہ اب تمہاری ضرورت نہیں

میرے شب و روز اب اداس نہیں

میں اب  مسکرا سکتا ہوں

میرے دل کو نہ جنوں ہے کوئی

نہ سوچ کو کوئی وہم

میں مست ہوں اپنے خدا  کیساتھ 

دن رات 

تنہا تنہا

Tuesday, February 4, 2020

The Ruines of My Heart

You live in my thoughts and you live around me, you make me happy, you make me smile, you make my day and my nights worth living for, away from everyone and everywhere, 

In the ruines of my heart.

Deep inside, alone in the darkness 

Your voice echoes in the hollowness of my heart, beating slowly,

in the ruines of my heart.

The shadows of time and the stillness of my voice

Mimicks the moments I spent with you, 

I charish them all 

Silently, in the ruines of my heart. 

The warmth of your touch 

and the softness of your voice 

reminds me of the days and nights, 

when I was the king of my thoughts 

Now I am just a prisoner of time 

in the ruines of my heart

I deceive my faith with a borrowed smile

hiding the sorrows of tomorrow and I,

Keep on building fences around you and I, in the ruines of my heart 

it makes me sad to know that you live here, alone without me 

With no hope nor any desire to return 

So I keep it vacant and empty, in the ruines of my heart

in the ruines of my heart, 

I keep a memory of you 

A smile to share, a moment to remember

Deep inside me, a place to live in the ruines of my heart.... 

Wednesday, January 8, 2020

ساتھ ساتھ

دیکھو ہم رواں ہیں

زندگی کی رو میں ہم دونوں 

رواں ہیں

غم سے دور مسکراہٹوں کے شہر میں

امید کی راہ پہ ہم رواں ہیں

تمہاری نظر اور میری فکر

ایک سوچ کا جھروکا

دور کر رہا ہے میرے کل کو

میرے آج سے

میری سوچ سے سمٹ رہی ہے

میر ے کل کی وہ امید 

جس کے پل پل میں 

تم ہو ، میں ہوں 

اور ہمارے درمیان کا ایک رکا ہوا یہ اک پل ہے

جس سے میں جدا ہو رہا ہوں رفتا رفتا

تنہا تنہا

تھام لو مجھے تم  پھر ایک بار 

اُس ہی طرح سے

جیسے تم ہی تو ہو وہ

جسے میں سونپ دوں اپنے 

زمیں آسماں

اپنا آج اور کل اور کل کے بعد کے وہ تمام دن

اور راتیں

جن کو تراش رہا ہوں میں اپنے وجود میں کھو کر

ذرا ذرا اور لمحہ لمحہ 

کچھ اس طرح

جیسے تمھارا نام گنگنا رہا ہوں 

ایک مایوس خدا کی طرح

جس کا آج اور کل

تاریک ہے 

اک رات کی مسلسل خاموشی کی طرح

جس میں ہم چلے جا رہے ہیں

اک انجان رہ گزر پر 

ساتھ ساتھ ایک ساتھ 

ہم رواں ہیں

Monday, November 4, 2019

خود سے

میں خود کو کہتے سنتا ہوں

جب خود سے جھوٹ کہتا ہوں 

تم سے ملنے کو سکھ کہتا ہوں 

اور گمسم گمسم سا رہتا ہوں

خود سے لڑ کر اب بھی میں

تم سا ہی تو دِکھتا ہوں

جب سے اپنا نام گما یا

میں بھی ڈھونگی بن کر رہتا ہوں

مجھ سے پوچھو میرا پتہ

اب میں کس کے در پہ رہتا ہوں

اک ٹوٹا پھوٹا بوسیدہ سا خالی گھر ہے میرا

جس میں رب رب کرتا رہتا ہوں

باتوں سے میری تنگ نہ ہونا تم

میں خود سے بیگانہ جھومتا رہتا ہوں

جان سکو تو جان لو تم سے پھر کہتا ہوں

میں اک اک پل میں برسوں رہتا ہوں

تم سے پوچھیں گے سکھ دکھ دینے والے

میں کون ہوں تیرا جب جب میں تنہا رہتا ہوں

میں خود سر سا خود میں رہنے والا

اب تم سے یہ کہتے سنتا ہوں

میں تیرے آج میں رہتا ہوں  

کل میں رہتا ہوں

تیرے پل پل میں رہتا ہوں





Saturday, March 30, 2019

تم بھی وہی ہو

تم بھی وہی ہو

جو مجھ سا نہیں

تم خوش تو ہو نا؟

تم خوش تو ہو نا؟

ہاں بہت

مگر

کبھی کبھی اک یاد

ستاتی ہے

کاش تم بھی چاہتے 

اپنے جنوں

اپنے سپنوں کی طرح

تم کہو

تم تو خوش ہو نا!

ہاں 

لیکن 

اک سوچ تنہا کر دیتی ہے

اکثر

بھیڑ میں

مسکراہٹوں کے اجالوں میں

بادلوں میں

تمہارے خیالوں میں

اور میں پھر کھو جاتا ہوں

وقت کے 

ادھورے خوابوں کے

اَن ہی بازاروں میں

تم کہو

کیا اب بھی 

آنکھیں موندے 

یاد کرتے ہو؟

خوش رہتے ہو؟

ہاں اکثر 

تنہائی کی محفلوں میں

خودی کے سلسلوں میں

انجانے سوالوں میں

خوش تو رہتا ہوں

پر کبھی کبھی

اک سوچ پوچھتی ہے

خوش تو ہو نا؟

تم سے بچھڑ کر

تم سے مُکر کر

مسکراہٹ میں دبی

اک اداس سوچ کی طرح

جس کی نہ منزل کوئی

جس کا نہ راستہ کوئی

ایک گونجتی انا کی طرح

مجھ سے  کہتی ہے

تم خوش تو ہو نا؟





Sunday, January 6, 2019

Sad Souls

Stepping away from our realities

walking towards an untamed future

Looking at the stars, I am holding time for a while

Just to hold your hand for just a little while more

And I say to myself, a little more...