Wednesday, November 15, 2017

آنکھیں

اُف وہ آنکھیں آج بھی بہت یاد آتی ہیں
میں جن  میں اپنے خواب ڈھونڈ لیا کرتا تھا

Wednesday, October 4, 2017

تم جا تو رہے ہو

تم جا تو رہے ہو
پر اتنا بتاتے جاؤ
مجھے کس کے سہارے
چھوڑے جارہے ہو؟
جانا ہی ہے تو
یہ سب بھی لیتے جاؤ
جو تمھارے بنا ادھورے ہیں
یہ شام
یہ مسکراہٹوں کی دھنک
یہ پل دو پل کا ساتھ
جس میں ہر بار تم نے
اقرار کیا
 یہی کہہ کر نہ کہ
نہیں، نہیں
تم جا تو رہے ہو
پر اتنا تو کرتے جاؤ 
کہ بس
لکھ دو۔۔۔ 
میرا نام
اپنے نام کے ساتھ

Saturday, September 30, 2017

الجھن


کہنے کو تو حقیقت تھی سننے میں اک فسانہ تھا 

میری الجھن کا سب تیرا بےوجہمسکرا نہ تھا


Friday, September 22, 2017

تنہائی میں

یوں ہی تم مجھ سے ملا کرو شبِ تنہائی میں
میں اکثر دن کے اجالوں میں بھٹک جاتا ہوں

ادھورا شخص

برسوں کے بعد سرِراہ وہ ادھورا شخص ملا مجھے
خاموش رہا  بہت  پر دیکھتا رہا دیر تک وہ مجھے

وقت لے آیا اس کے سامنے اک بار پھر مجھے
اداسیوں میں گم تنہا خاموش ہمسخن سا وہ لگا مجھے

میں کہتے کہتے پھر اک بار رک گیا ہوں اسکے روبرو
وہ پھر کہہ گیا ہے وقت سے اس بار تو چرا لو مجھے

میں سمجھا ہی نہیں سوچ کی اس قید کو اپنے تئیں
وہ مسلسل شدت سے سرِ شام  اکثر یاد آتا رہا مجھے

میں دیکھتا ہوں اپنے وجود کو تنھاکھویا ہوا کبھی کبھی
میرا ہمزاد مجھ سے دور میرے ساتھ میرا سایہ لگا مجھے

 میں  بکھر رہا ہوں وقت کے اس موڑ پر تیرے روبرو
میں کوئی سمندر نہیں بس تیری سوچ ہوں سمیٹ لو مجھے

Monday, August 21, 2017

برسوں کے بعد

آج پھر اداس سی اک شام آئی ہے برسوں کے بعد
پھر دل نے تمھیں بھلایا ہے اک بار برسوں کے بعد

بس اک یاد کا رشتہ ہے تم سے فقط باقی اب جاناں
وفاومہبت سچ وجھوٹ کوئی رنگ بامعنی نہیں رہے اب

لفظوں کی اُس مسلسل تکرار میں جذبوں کی برسات رہی
تنہا کھڑے تم تنہا کھڑا میں بھیگتے رہے ہیں اُس اِک یاد میں

میں کہیں اپنے آپ میں کھو گیا ہوں پھر سے
مجھے ڈھونڈ لاؤ میرے پاس میرے خیال سے

درد کے رشتوں میں وقت اور لفظوں کا تکلف کیسا؟
گلہ کرو میری بے حسی کا پھر اک بار تم مجھ سے

تیری یاد لوٹ آئی ہے پھر اک بار اے ہمسخن
میں پھر تیرے روبرو کھڑا ہوں اک گھمنڈ کی طرح

سوچ کے محور کو بدل کے دیکھ رہا ہوں اک بار پھر میں 
تیری یاد کے پہلو میں بھلا دیا پھر خود کو اک بار میں نے 



Tuesday, May 30, 2017

سوچ ک چند پَل

اداسی اپنی آخوش میں لے رہی ہے مجھےکسطرح  رفتہ رفتہ
میں خود کو کھو رہا ہوں پھر تمہارے صہر میں رفتہ رفتہ

اک تیری یاد اور دل کا سکوں دونوں ہی برباد ہو کر رہیں گے
میں تجھے تو بھول جاؤں پر اس ویرانے کا کیا کروں گا اس بار

سب سے خلوص سے ملا کرو، یہی کہتے تھے نہ تم
اب سب سے اچھے مراسم ہیں اس عبرت خانے میں

وہ میری حسرت ہی رہی اک خاموش خواہش کی طرح
مسکراتی آنکھوں کے سراب لوٹتے رہے رات بھر مجھے

تم  سے الجھنے کے تو میرے پاس کئی بہانے ہیں اے ہمدم
تم سے وابستہ کتنی شامیں، اداس لمہےاور ٹھرے ہوئے کچھ پل

مجھ سے میرا آپ مخاطب ہو کر کہتا ہے اکثر تنہائی میں
نادان ، ناسمجھ تو اب بھی اس کمبخت دل کی سنتا ہے

داستاں

مجھ سے مانگو کبھی میرا دل تم بھی تو
ادھورے وقت کی داستاں سناۓ گا یہ تمھیں



Sunday, April 16, 2017

تلاش ہے!۔

نہ کوئی منزل ہے نہ کسی منزل کی جستجو ہے
اک سرابِ منزل ہے جس کی تلاش میں کھو گیا ہوں

وقت کے ہاتھوں گرفتار لمہوں کے درمیاں کہیں  خاموش
ایک خوابِ مسلسل کی مستقل تلاش میں  کھو گیا ہوں

جسے ڈھونڈ لوں میں اپنے آپ میں کھو کر 
اُسی حقیقت کے فریب کی اب تو تلاش ہے

اپنی سوچ کے زخم دکھاؤں میں کس لئے 
جسے دفنا دیا تھا کل پھراُس کی تلاش ہے

زندوں میں نہ مردوں میں جس کا شمار ہے
وہ حقیقت میں ہوں جس کی تجھے تلاش ہے

آج بھٹک جانے دے اے دل بس اُس کی یاد میں مسلسل
آج اس  معصوم کی آنکھوں میں صرف اپنی تلاش ہے


Saturday, April 15, 2017

نادان نا سمجھ

مجھ سے میرا آپ مخاطب ہو کر کہتا ہے اکثر تنہائی میں 
نادان ، ناسمجھ تو اب بھی اس کمبخت دل کی سنتا ہے؟

رسمِ الفت

رسمِ الفت نئی نئی ہےابھی، دل کی بات تم سے کہیں کیسے؟
جاناں  کتنا بھلا ہو، خاموش میں رہوں اور تم سمجھ جاؤ

Wednesday, April 5, 2017

ہمسفر لمہے

چہروں پہ لکھی کہانیاں
ایک ایک کرکےٹوتی وہ تمام خاموشاں
ایاں ہوتی ہیں کچھ بیاں ہونے سے
ذکر کرتی ہیں ان لمہوں کا
جن کے گزرنے کا احساس 
ایک بازگشت کی طرح
دہرا رہا ہے بار بار ہر بار
کہنے کو ایک سرگوشی ہے
پر وقت کی کہی ہر بات 
کہنے سے پہلے تو کبھی
سننے کے بعد اس موڑ پہ
کھڑے منتظر وہ تمام ہمسفر لمہے
اپنی اپنی تھکان کا بوجھ لئیے
ایک ساتھ تنہا تنہا رواں ہیں
اُس منزل کی جانب
جس کی جستجو
ان کی منتظر ہی نہیں 


Monday, March 20, 2017

جاناں سے

تم سے کہنے کی نہیں سننے کی بات ہے جاناں!
بہت مدھم سی صدا آتی ہے، دل میں بسا لو مجھکو