Sunday, April 16, 2017

تلاش ہے!۔

نہ منزل ہے نہ منزل کی جستجو ہے
اک سرابِ منزل ہے جس کی تلاش ہے

وقت کے ہاتھوں گرفتار لمہوں کے درمیاں
ایک خوابِ مسلسل کی مستقل تلاش ہے 

جسے ڈھونڈ لوں میں اپنے آپ میں کھو کر
اُسی حقیقت کے فریب کی اب تو تلاش ہے

اپنی سوچ کے زخم دکھاؤں میں کس لئے 
جسے دفنا دیا تھا کل پھراُس کی تلاش ہے

زندوں میں نہ مردوں میں جس کا شمار ہے
وہ حقیقت میں ہوں جس کی تجھے تلاش ہے

آج بھٹک جانے دے اے دل بس اُس کی یاد میں
اس معصوم کی آنکھوں میں صرف اپنی تلاش ہے


No comments:

Post a Comment