Monday, August 29, 2016

اگست ۲۹ کی سرگوشی

اُس رات کی صبح نہ ہو سکی آج تک
وہ تمام شب اُس زماں میں روک رکھی ہے
جہاں اب سوچ کا گزر ممکن نہیں
جس کے گرد وقت پہرہ لگاۓ بیٹھا ہے
جس کی کھڑکی پہ کھڑے وہ لمہے آج بھی
مجھے الوداع کہنے کو تیار نہیں
بس یوں ہی مؤں موڑ کر
دامن کو چھڑا لینے سے پہلے
وقت اپنے قدموں کے نشاں
نقش کر گیا ہے
دلِ نامراد کی پاسبانی کیلۓ
نا معلوم سا ایک دلاسہ
اک ادھوری سی کسک 
وہ امید کا خاموشی سے کہنا روٹھ کر
کہاں تھے اب تک؟
کس کے ساتھ تھے؟
کس کے پاس تھے؟
وہ بے جا کی شکایتیں
وہ خوامخواہ
بات بے بات اداس رہنا
وہ منانے کے دس بہانے 
ناراض رہنے کی وہی دو باتیں 
تمھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو
مجھے یاد ہے 
ذرا ذرا




Sunday, August 28, 2016

مکیں

تم نہ سمجھوگےاس دل کا ویرانہ
اس بستی کےمکیں بس تم ہی تو ہو

Saturday, August 20, 2016

تم سے

تم سے کہنے کو تو ناراض ہوں میں
پر تمھارا ذکر اکثرخود سے رہتا ہے 

آوارگی

تجھ سے بھاگ کر میں جاتا بھی تو کہاں؟
میرےآوارگی کے سب ٹھکانوں سے واقف ہےتو

کل کا سورج بولے گا

ستمگر سے آج کہہ دو
وفاؤں کا ذکر چل نکلا ہے
اس معصوم سے کہہ دینا
جس پہ ظلم کا حساب اب بھی باقی ہے
اِن وادیوں میں پھیلا دو یہ پیغام
ظالم کے دن گنے جا چکے ہیں
اب تو صرف حدِنظر تک
مظلوموں کے ہاتھ نظر آتے ہیں
گریبان تیار رکھو
آج ہم ظلم کو مٹانے نکلے ہیں
سر پہ کفن باندھے
ہم کفن نکلے ہیں
قلم ہمارا ہتھیار ہے
سچ ہماری ڈھال 
کہو کہ ظالم کو آج شکست ہوگی
کہو کہ آج پھر حق ہی کی فتح ہوگی
کل صبح کا سورج جب نکلے گا
ایک ہمارا لشکر ہوگا
حدِنظر تک بس خلقِ خدا ہوگی
اب راج کریں گے سب ظلم سہنے والے
اب بولے گا بولنے والا
اب راج ہمارا ہوگا
اس ستمگر سے کہہ دو
کل کا سورج نکلے گا
کل سے راج ہمارا ہوگا

Thursday, August 4, 2016

ہرجائی

تم سے بیوفائ کا میں سوچ لوں یہ ممکن نہیں
ہر حسن میں فقط تم ہی تم نظر آتے ہو مجھے 

برسوں کے بعد

وہ شخص ملا کچھ اس طرح برسوں کے بعد 
جیسےبچھڑنا اس کی ادا کبھی رہی ہی نہ ہو
***
اسی کی باتیں آج بھی کمال ہیں 
پیار بھی ہےاک سرگوشی کی طرح 
***
بیٹھے بیٹھے جو میں مسکراتا ہوں 
اس کی وجہ بھی  شاید تم ہی ہو
***
میں خود سے ہمکلام رہتا ہوں اکثر
تم سے گفتگو کا یہ سلسلہ جاری ہے
***
تمھارے میرے درمیان کیا پردہ داری
تمھارا راز میں ہوں میرا خواب تم ہو
***
تم سے کہنے کو تو بہت سی باتیں ہیں مگر
نہ حوصلہ میرے پاس نہ برداشت تیرے پاس
***
سچ بات تو یہی ہے کہ تم یاد آتے ہو اکثر
اب میں جھٹلاؤں اسے یہ بھی ضروری ہے
***
مجھے کیسے نہ یاد آؤ گے تم
کیسے مجھے تم بھول پاؤ گے
ایک سوچ ہے مسلسل سی بس
جس میں جیۓ جا رہے ہیں ہم
***
نہ مجھےتم سے مہبت ہے نہ تمھیں مجھ سے
کتنا ایک سا سچ اور جھوٹ ہے میرا تمھارا