Thursday, August 4, 2016

برسوں کے بعد

وہ شخص ملا کچھ اس طرح برسوں کے بعد 
جیسےبچھڑنا اس کی ادا کبھی رہی ہی نہ ہو
***
اسی کی باتیں آج بھی کمال ہیں 
پیار بھی ہےاک سرگوشی کی طرح 
***
بیٹھے بیٹھے جو میں مسکراتا ہوں 
اس کی وجہ بھی  شاید تم ہی ہو
***
میں خود سے ہمکلام رہتا ہوں اکثر
تم سے گفتگو کا یہ سلسلہ جاری ہے
***
تمھارے میرے درمیان کیا پردہ داری
تمھارا راز میں ہوں میرا خواب تم ہو
***
تم سے کہنے کو تو بہت سی باتیں ہیں مگر
نہ حوصلہ میرے پاس نہ برداشت تیرے پاس
***
سچ بات تو یہی ہے کہ تم یاد آتے ہو اکثر
اب میں جھٹلاؤں اسے یہ بھی ضروری ہے
***
مجھے کیسے نہ یاد آؤ گے تم
کیسے مجھے تم بھول پاؤ گے
ایک سوچ ہے مسلسل سی بس
جس میں جیۓ جا رہے ہیں ہم
***
نہ مجھےتم سے مہبت ہے نہ تمھیں مجھ سے
کتنا ایک سا سچ اور جھوٹ ہے میرا تمھارا 
 

No comments:

Post a Comment