Thursday, November 24, 2016

چند سوچیں

مجھ سے تیری کیا پردہ داری ہے اے میرے رفیق 
تیری منزل نہیں، ہمسفر نہیں، تیری رہ گزر تو ہوں

اس میری سوچ کا بھرم تو بھی رکھ لے اب کی بار 
کہ میں تیری ضرورت نہیں اک خواہشِ نامکمل ہوں 


No comments:

Post a Comment